ہمارے ساتھ جو یہ کار زندگانی ہے
Badr Muneerہمارے ساتھ جو یہ کار زندگانی ہے
کسی بھٹکتی ہوئی روح کی کہانی ہے
کہیں گے لاکھ مگر مانتی نہیں دنیا
ہمارا حاصل گفتار رائیگانی ہے
بدن خدا نے تراشا ہے اور لفظوں میں
جو نقش ہم نے ابھارا ہے نقش ثانی ہے
یہ اضطراب اچانک نہیں ملا دل کو
کسی اداس ملاقات کی نشانی ہے
برس رہے ہیں جو بادل انہیں کہاں معلوم
ہماری آنکھ میں صحرا کی حکمرانی ہے
کچھ ایسے لوگ بھی ہیں عمر کے تسلسل میں
کہ جن کے دم سے مرے سانس میں روانی ہے