ذرا سی دیر چراغوں کا دل بہل جائے
Aadarsh Dubey (b. 2001)ذرا سی دیر چراغوں کا دل بہل جائے
یہ آفتاب کہیں اور جا کے جل جائے
خدا پرندوں کے زیادہ قریب رہتا ہے
عجب نہیں کہ شکاری کا تیر جل جائے
میں روز روز تو چہرے نہیں بدل سکتا
کسی کو بھیج مرے آئنے بدل جائے
اسے گرا کے ہی آگے اگر نکلنا ہے
خدا کرے کے مرا راستا بدل جائے
میں چاہتا ہوں ترے دل میں دیر سے پہنچوں
میں چاہتا ہوں کہ پہلے مری غزل جائے
میں اس لیے بھی ترا ذکر روز کرتا ہوں
کسی مقام پہ شاید یہ دل سنبھل جائے