مسرتوں کے خزانے ہی کم نکلتے ہیں

Munawwar Rana

مسرتوں کے خزانے ہی کم نکلتے ہیں

کسی بھی سینے کو کھولو تو غم نکلتے ہیں

ہمارے جسم کے اندر کی جھیل سوکھ گئی

اسی لیے تو اب آنسو بھی کم نکلتے ہیں

یہ کربلا کی زمیں ہے اسے سلام کرو

یہاں زمین سے پتھر بھی نم نکلتے ہیں

یہی ہے ضد تو ہتھیلی پہ اپنی جان لیے

امیر شہر سے کہہ دو کہ ہم نکلتے ہیں

کہاں ہر ایک کو ملتے ہیں چاہنے والے

نصیب والوں کے گیسو میں خم نکلتے ہیں

جہاں سے ہم کو گزرنے میں شرم آتی ہے

اسی گلی سے کئی محترم نکلتے ہیں

تمہی بتاؤ کہ میں کھلکھلا کے کیسے ہنسوں

کہ روز خانۂ دل سے علم نکلتے ہیں

تمہارے عہد حکومت کا سانحہ یہ ہے

کہ اب تو لوگ گھروں سے بھی کم نکلتے ہیں