یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہے

Munawwar Rana

یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہے

اسی نے ہم کو تماشا بنا کے رکھا ہے

وہ کس طرح ہمیں انعام سے نوازے گا

وہ جس نے ہاتھوں کو کاسہ بنا کے رکھا ہے

یہاں پہ کوئی بچانے تمہیں نہ آئے گا

سمندروں نے جزیرہ بنا کے رکھا ہے

تمام عمر کا حاصل ہے یہ ہنر میرا

کہ میں نے شیشے کو ہیرا بنا کے رکھا ہے

کسے کسے ابھی سجدہ گزار ہونا ہے

امیر شہر نے کھاتا بنا کے رکھا ہے

میں بچ گیا تو یقیناً یہ معجزہ ہوگا

سبھی نے مجھ کو نشانہ بنا کے رکھا ہے

کوئی بتا دے یہ سورج کو جا کے ہم نے بھی

شجر کو دھوپ میں چھاتا بنا کے رکھا ہے