تمہاری یاد میں آنکھیں بھگو رہا ہوں میں

Dard Faiz Khan (b. 2003)

تمہاری یاد میں آنکھیں بھگو رہا ہوں میں

مگر زمانہ سمجھتا ہے رو رہا ہوں میں

کمال یہ ہے کہ خود اپنے دل کے تاروں میں

حسین عشق کے موتی پرو رہا ہوں میں

کٹی ہے عمر یہ ساری بتوں کی الفت میں

مگر اب اپنے گناہوں کو دھو رہا ہوں میں

مرے یقین کا اس سے ہی امتحاں ہوگا

بھنور میں عشق کے کشتی ڈبو رہا ہوں میں

ملے تو اس کو نشانی وہ دوں محبت کی

اٹھا کے شانے پہ اپنے جو ڈھو رہا ہوں میں

خیال آبلہ پائی ہے ہر قدم مجھ کو

سو اپنی راہ میں کانٹے بھی بو رہا ہوں میں

لگا رہے ہیں وہ مہندی خوشی کی ہاتھوں میں

سکون دل کا مگر فیضؔ کھو رہا ہوں میں