Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتاتو درمیاں نہ مقدر کا فیصلہ رکھتاIffat Zarrin (b. 1958)
- وہ دیکھنے میں فقط راستے کا پتھر ہےہزار راہبروں سے مگر وہ بہتر ہےChander Wahid (b. 1958)
- سنبھل سنبھل کے یہاں زندگی بسر کی ہےبڑی طویل کہانی تھی مختصر کی ہےKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
- وہی زمانہ وہی ماہ و سال اوڑھے ہیںبہت دنوں سے تمہارا خیال اوڑھے ہیںKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
- اب اپنی ذات کا عرفان ہونے والا ہےخدا سے رابطہ آسان ہونے والا ہےNadeem Fazli (b. 1959)
- بصیرتوں کا نظر احترام کرتی ہےسماعتوں سے خموشی کلام کرتی ہےNadeem Fazli (b. 1959)
- ہر ایک بات کسی بات پر ہے گویا طنزمری زبان مری ذات پر ہے گویا طنزNadeem Fazli (b. 1959)
- گماں کی حد سے گزر کر یقیں کی حد میں آئےوہ آسمان اگر ہے زمیں کی حد میں آئےZafar Kamali (b. 1959)
- وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھیعجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھیAanis Moin (1960–1986)
- یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگانئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگاAanis Moin (1960–1986)
- گیا تھا مانگنے خوشبو میں پھول سے لیکنپھٹے لباس میں وہ بھی گدا لگا مجھ کوAanis Moin (1960–1986)
- زمیں کے ٹکڑے کئے آسمان بانٹے گاوہ شاہ وقت ہے سارا جہان بانٹے گاKahkashan Tabassum (b. 1960)
- شب فراق ہے اور ہم بھی غم کے مارے ہیںتمہارے خواب ہی تنہائی کے سہارے ہیںGhazal Jafari (b. 1960)
- کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنابرا شگون ہے ہر دم شکایتیں لکھناGhazal Jafari (b. 1960)
- صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہدروں کا شور مری خامشی سے شرمندہIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- ہوائے شام ذرا سا قیام ہوگا ناچراغ جاں کو جلاؤں کلام ہوگا ناIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتےتو سوچیے کہ اجالے کدھر گئے ہوتےNafas Ambalvi (b. 1961)
- تجھے یہ کیسے بتاؤں عذاب کتنے تھےمری نظر کے مقابل سراب کتنے تھےNafas Ambalvi (b. 1961)
- جو سازشیں تھیں جلی بستیاں بتاتی ہیںیہ درد وہ ہیں جو خاموشیاں بتاتی ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- نہ جانے کب کی دبی تلخیاں نکل آئیںذرا سی بات تھی اور برچھیاں نکل آئیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہم آج اپنا مقدر بدل کے دیکھتے ہیںتمہارے ساتھ بھی کچھ دور چل کے دیکھتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- اسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہےمجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
- شعور تک ابھی ان کی کہاں رسائی ہےابھی تو کتنے خداؤں کی واں خدائی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- عجیب بات ہے بیمار ہے نہیں بھی ہےیہ دل تمہارا طلب گار ہے نہیں بھی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- کہانی کچھ بھی نہیں تھی بیاں زیادہ تھاذرا سی آگ لگی تھی دھواں زیادہ تھاObaidur Rahman (1961–2014)
- نکھرنا عقل و خرد کا اگر ضروری ہےجنوں کی راہبری میں سفر ضروری ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- ہمیں تو گوشہ نشیں اور جہاں بھی ہونا ہےیہاں بھی ہونا ہے ہم کو وہاں بھی ہونا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- کوئی دماغ سے کوئی شریر سے ہارامیں اپنے ہاتھ کی اندھی لکیر سے ہاراObaidur Rahman (1961–2014)
- نظر میں دور تلک رہ گزر ضروری ہےکسی بھی سمت ہو لیکن سفر ضروری ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتےکیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- کچھ اس مقام سے اب دل کا کارواں گزرےیقیں کی حد سے جو گزرے تو بے زباں گزرےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- بڑی حسین تھی وہ رات کیسے نیند آتیتو مجھ سے دور تھی دو ہاتھ کیسے نیند آتیRaakesh ulfat (b. 1961)
- تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کوسبھی کے سامنے اپنے گلے لگا مجھ کوRaakesh ulfat (b. 1961)
- تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہےمگر یہ لمحہ بڑا کامیاب لگتا ہےRaakesh ulfat (b. 1961)
- چراغ لے کے ہتھیلی پہ چل سکو گے کیاگھنا اندھیرا ہے باہر نکل سکو گے کیاRaakesh ulfat (b. 1961)
- یہ بھول جاؤ کہ ڈر جائے گی مری خوشبوہر ایک سمت کو مہکائے گی مری خوشبوRaakesh ulfat (b. 1961)
- تمہارے حصہ کے جتنے بھی غم ہیں میں لے لوںمرے نصیب کی ہر اک خوشی ملے تم کوRaakesh ulfat (b. 1961)
- تمہیں بھی چاہا، زمانے سے بھی وفا کی تھییہ نگہ داری جنوں نے جدا جدا کی تھیIftikhar Mughal (b. 1961)
- کبھی کبھی تو یہ حالت بھی کی محبت نےنڈھال کر دیا مجھ کو تری محبت نےIftikhar Mughal (b. 1961)
- کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میںتو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میںIftikhar Mughal (b. 1961)
- کوئی وجود ہے دنیا میں کوئی پرچھائیںسو ہر کوئی نہیں ہوتا کسی کی پرچھائیںIftikhar Mughal (b. 1961)
- دیا فریب تمنا کو ہر گھڑی میں نےمراد من کی نہ پائی مگر کبھی میں نےDaulat Ram Sabir Panipati (b. 1961)
- ابھی ہے ان کی جفاؤں کی اک چبھن باقیفغاں و نوحہ گری کی ہے کچھ اگن باقیDaood Mohsin (b. 1962)
- سمجھ رہے تھے کہ اپنی سدھر گئی دنیاہمیں تو مفت میں بدنام کر گئی دنیاDaood Mohsin (b. 1962)
- رفاقتوں کا جہاں تار تار دیکھا ہےوجود زیست کا اڑتا غبار دیکھا ہےDaood Mohsin (b. 1962)
- ادب سے عاری درندہ صفات لوگوں میںمیں بیٹھتا ہی نہیں واہیات لوگوں میںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیںسکوت توڑنا ہو تو صدائیں لگتی ہیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہےنئے کے بعد ہی کوئی پرانا ہوتا ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- بنا رہا ہوں میں فہرست چھوٹے لوگوں کیملال یہ کہ بڑے نام اس میں آتے ہیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- اگرچہ وقت مناجات کرنے والا تھامرا مزاج سوالات کرنے والا تھاRafi Raza (b. 1962)