ابھی ہے ان کی جفاؤں کی اک چبھن باقی

Daood Mohsin (b. 1962)

ابھی ہے ان کی جفاؤں کی اک چبھن باقی

فغاں و نوحہ گری کی ہے کچھ اگن باقی

عبادتوں میں تقدس کا اب چلن ہے کہاں

جبین زہد میں سجدوں کی ہے چبھن باقی

ہے پاس حکم خدا نہ خیال محشر کا

فقط ہے اندھے عقائد کا اب چلن باقی

ہر ایک گام بچھی ہے بساط رسوائی

نہ سبزہ زار ہیں اب اور نہ وہ چمن باقی

فسردگی کے اندھیروں میں کھوئے رہتے ہیں

نہ وہ خوشی ہے میسر نہ وہ لگن باقی

لبوں پہ رقص تبسم تھا آج تک میرے

ہے پاس کچھ تو محض رنج اور محن باقی

پیمبری کا نہیں شوق مجھ کو اے محسنؔ

ہے دل میں میرے فقط آج فکر فن باقی