تجھے یہ کیسے بتاؤں عذاب کتنے تھے

Nafas Ambalvi (b. 1961)

تجھے یہ کیسے بتاؤں عذاب کتنے تھے

مری نظر کے مقابل سراب کتنے تھے

یہ حشر میں مرے اعمال ہی بتائیں گے

گناہ کتنے تھے میرے ثواب کتنے تھے

تجھے خبر ہی کہاں ہے کہ ان اندھیروں میں

ہتھیلیوں پہ مری آفتاب کتنے تھے

لہو لہو تھا بدن میں حساب کیا رکھتا

چمن میں خار تھے کتنے گلاب کتنے تھے

شکستہ پائی مرا حاصل سفر تو بتا

میں جب چلا تھا تو آنکھوں میں خواب کتنے تھے

میں ایک جگنو کہ تاریکیوں سے لڑتا ہوا

تمہارے رخ پہ مگر آفتاب کتنے تھے

حضور اپنی طرف بھی ذرا نگاہ کریں

کہ عیب آپ میں عالی جناب کتنے تھے

ملے جو لوگ نفسؔ مجھ کو با خلوص ملے

میں کیا کہوں کہ اب ان میں خراب کتنے تھے