Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنی دھن میں ہوں خیال ماسوا سے کیا غرضآشنا سے کیا غرض نا آشنا سے کیا غرضZaheen Shah Taji (1902–1978)
  2. اسی سے خوش ہے دل جس سے خفا ہےنہ جانے یہ مجھے کیا ہو گیا ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  3. ان کی یاد آئے تو کچھ اس کا تقاضہ ہوگاسوچتا ہوں وہ رہے یاد تو پھر کیا ہوگاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  4. ایک حقیقت کے دو محمل حسن و محبت دونوں ہیںخلوت خلوت محفل محفل حسن و محبت دونوں ہیںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  5. بہت برسی گھٹا چھانے سے پہلےوہ آئے ہیں خیال آنے سے پہلےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  6. ترا مجاز حقیقت سے ہم کنار بھی ہےجو آشکار نہیں ہے وہ آشکار بھی ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  7. تری محفل میں تیری ہی محبت کھینچ لائی ہےمرا ذوق نظر تیرا ہی شوق خودنمائی ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  8. تھی محبت کبھی فقط تم سےآج ہر چیز بن گئی محبوبZaheen Shah Taji (1902–1978)
  9. جو پہچان آئے تو پہچان جائےمجھے جان جائے تمہیں جان جائےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  10. جو حق سے دور ہے وہ حق سمجھ نہیں سکتاسوائے ذق ذق‌ و بق بق سمجھ نہیں سکتاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  11. حسن تاباں اس طرف ہے عشق سوزاں اس طرفوہ پریشاں اس طرف ہے ہم پریشاں اس طرفZaheen Shah Taji (1902–1978)
  12. خاک سے لالہ و گل سنبل و ریحاں نکلےتم بھی پردے سے نکل آؤ کہ ارماں نکلےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  13. خدا کو خود پہ جو غالب سمجھ نہیں سکتاوہ علم حق کے مطالب سمجھ نہیں سکتاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  14. خدا کی راہ میں قربان کی ہے زندگی میں نےیہ وہ غم ہے کہ اس غم پر لٹائی ہر خوشی میں نےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  15. خود اپنے علم کی آنکھوں میں بے پردہ نہیں آتابہت دیکھا ہے اپنے آپ کو لیکن نہیں دیکھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  16. خیال ہے نہ تصور مشاہدہ ہے نہ خوابطرح طرح سے اٹھاتا ہوں اپنے رخ سے نقابZaheen Shah Taji (1902–1978)
  17. دل کو شیشہ کہوں آنکھوں کو میں پیمانہ کہوںآپ مے خانہ بنوں پھر تجھے مے خانہ کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  18. دل ہوا تیری نظر سے فیضیابمیں ترا جلوہ نہ تو میرا حجابZaheen Shah Taji (1902–1978)
  19. ساقی بادہ عرفاں تم ہوشہ سنجر شہ جیلاں تم ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
  20. سلام آیا نہ کچھ پیغام آیاتغافل ان کا میرے کام آیاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  21. ظاہری آنکھ سے پنہاں تم ہودیدۂ دل سے نمایاں تم ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
  22. عشق مجذوب ہے دیوانہ ہےعقل سے ہوش سے بیگانہ ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  23. عشق میں خود حسن غارت گر لٹالوٹنے والا یہاں آکر لٹاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  24. عمر بھر پوجا ہے میں نے جس کو وہ در ہے یہیبت کدہ میرا یہی اللہ کا گھر ہے یہیZaheen Shah Taji (1902–1978)
  25. فاتحہ بھی ترے مرقد پہ پڑھوں یا نہ پڑھوںتجھ کو مردہ کہوں یا زندۂ جاوید کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  26. کبھی انسان سے انسان محبت نہ کرےہاں محبت نہیں آسان محبت نہ کرےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  27. کون کہتا ہے کہ اس بزم سے سرکار گئےاب تو سرکار ہی سرکار ہیں اغیار گئےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  28. کہیں عنوان بدلا ہے کہیں طرز بیاں بدلاازل سے تا ابد افسانۂ ہستی کہاں بدلاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  29. کیا نہ دیکھا یہ کہو یہ نہ کہو کیا دیکھاہم نے جو کچھ بھی کسی بزم میں دیکھا دیکھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  30. مٹائیں صبر دل سے صبر کی تلقین فرمائیںسکون دل وہی چھینیں وہی تسکین فرمائیںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  31. محبت رہنما اپنی محبت راہبر اپنیادھر نکلی تری منزل جدھر اٹھی نظر اپنیZaheen Shah Taji (1902–1978)
  32. مری زبان سے تیرا بیان مشکل ہےہزار کوس کی دوری زبان سے دل ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  33. ناز فرمائے اگر میرا جنوںتم وہی کرتے رہو جو میں کہوںZaheen Shah Taji (1902–1978)
  34. نظر لوٹ کر دل میں آئے تو کیا ہوجو دیکھا ہے دل میں دکھائے تو کیا ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
  35. نہ الفاظ پہنچیں نہ معنی وہاں تککہوں حسن کی حد کہاں سے کہاں تکZaheen Shah Taji (1902–1978)
  36. نہ سمجھے گل رخوں کے ہم اشارےہمیں پتھر نہ مارے پھول مارےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  37. وہ آئیں گے وہ آتے ہیں وہ آنے کو ہیں وہ آئےتصور کو وہ بہلائیں تصور ہم کو بہلائےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  38. وہ تیری نگاہوں کا عالم جو مست کن و مستانہ تھامے خانے کا مے خانہ تھا پیمانے کا پیمانہ تھاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  39. وہ جلوے جو حجاب ناز سے محفل میں آتے ہیںمرے دل سے نکلتے ہیں کہ میرے دل میں آتے ہیںZaheen Shah Taji (1902–1978)