اپنی دھن میں ہوں خیال ماسوا سے کیا غرض
Zaheen Shah Taji (1902–1978)اپنی دھن میں ہوں خیال ماسوا سے کیا غرض
آشنا سے کیا غرض نا آشنا سے کیا غرض
بات کچھ دل کی سنی اے نسبت ذات و صفات
ہو بتوں سے بے نیازی تو خدا سے کیا غرض
زندگی کا اول و آخر تھی وہ پہلی نظر
ابتدا سے کیا تعلق انتہا سے کیا غرض
مدعا آموز ہے حسن تمنا آفریں
اس دل بے مدعا کو مدعا سے کیا غرض
عمر بھر اس کی جفا کو ہم وفا سمجھا کیے
کیا خبر وابستہ تھی اس بے وفا سے کیا غرض
حسن مستغنیٰ کی ہم نے بات رکھ لی اے ذہینؔ
ورنہ عشق بے غرض کو التجا سے کیا غرض