تھی محبت کبھی فقط تم سے
Zaheen Shah Taji (1902–1978)تھی محبت کبھی فقط تم سے
آج ہر چیز بن گئی محبوب
تھے کبھی تم ہی مرکز خوبی
آج کوئی بھی شے نہیں نا خوب
آج مطلوب ذرہ ذرہ ہے
تم ہی تم تھے کبھی مرا مطلوب
عشق منسوب تھا کبھی تم سے
آج تم بھی ہو عشق سے منسوب
میں نہیں میں نہ آج تم ہو تم
ہو گئے ایک طالب و مطلوب
عشق تنہا حقیقت عالم
یہ حقیقت مجاز سے محجوب
ہوش ہے جزو اور مستی کل
حسن سالک ہے عشق ہے مجذوب
ہوشیاری ہے حسن میں خوبی
ہوشیاری ہے عشق میں معیوب
اک تبسم ہے دوسرا ہے آہ
ایک یوسف ہے دوسرا یعقوب
بے قراری میں عشق گریۂ نوح
صبر میں عشق حضرت ایوب
راہ اخلاص میں خلیل ہے عشق
عشق میں وہم غیر ہے مسلوب