تری محفل میں تیری ہی محبت کھینچ لائی ہے

Zaheen Shah Taji (1902–1978)

تری محفل میں تیری ہی محبت کھینچ لائی ہے

مرا ذوق نظر تیرا ہی شوق خودنمائی ہے

تجلی سے کبھی دل کی تسلی ہو نہیں سکتی

کہاں یہ آنکھ مانوس حجابات ضیائی ہے

محبت سے ہر اک شے میں ہوئے آثار شے پیدا

محبت کی خدائی ہے محبت ہی خدائی ہے

خدا یاد آ رہا ہے حسن ایماں سوز ساقی سے

کمال پارسائی آج ترک پارسائی ہے

بہاریں فرش ہو ہو کر بچھی جاتی ہیں گلشن میں

عروس صبح گل ہو کر جوانی مسکرائی ہے

ذہینؔ اس دہر میں ہے مد و جزر زندگی اس سے

محبت ساز دل پر جن سروں سے گنگنائی ہے