اسی سے خوش ہے دل جس سے خفا ہے

Zaheen Shah Taji (1902–1978)

اسی سے خوش ہے دل جس سے خفا ہے

نہ جانے یہ مجھے کیا ہو گیا ہے

جفا ہوتی رہی یہ بھی وفا ہے

بڑا احسان بے منت جفا ہے

نہ فرمائیں سزا دینے کی زحمت

محبت آپ ہی اپنی سزا ہے

مجھے نا دیدہ جلوے پر گماں تھا

یہ جلوہ تو مرا دیکھا ہوا ہے

حقیقت میں مرا گریہ ہی اے دوست

ترے لب پر تبسم بن گیا ہے

ذہینؔ اس بندگی سے باز آیا

وہ کافر کیا کوئی میرا خدا ہے