بہت برسی گھٹا چھانے سے پہلے
Zaheen Shah Taji (1902–1978)بہت برسی گھٹا چھانے سے پہلے
وہ آئے ہیں خیال آنے سے پہلے
تغافل کیش میں نے تم کو سمجھا
مگر دیوانہ بن جانے سے پہلے
مقام دل مقدم ہے نظر پر
دل آیا ہے نظر آنے سے پہلے
ذرا سلجھائیں دل کی الجھنوں کو
وہ اپنی زلف سلجھانے سے پہلے
کب آتی ہے قیامت میں بتاؤں
ترے جانے کے بعد آنے سے پہلے
بہاریں مسکراتی ہیں خزاں میں
کھلے ہیں پھول مرجھانے سے پہلے
ہنسی کی جھلکیاں ہیں آنسوؤں میں
وہ خود آتے تھے یاد آنے سے پہلے
نقاب آیا نہ آئے ان کے رخ پر
ہمارے ہوش میں آنے سے پہلے
ذہینؔ اس کی حقیقت جس نے سمجھی
نہ سمجھی میرے افسانے سے پہلے