ایک حقیقت کے دو محمل حسن و محبت دونوں ہیں
Zaheen Shah Taji (1902–1978)ایک حقیقت کے دو محمل حسن و محبت دونوں ہیں
خلوت خلوت محفل محفل حسن و محبت دونوں ہیں
سب سے تنہا سب میں شامل حسن و محبت دونوں ہیں
کتنے آساں کتنے مشکل حسن و محبت دونوں ہیں
اپنے اپنے آئینے میں دیکھتے ہیں منہ اپنا اپنا
اپنے اپنے آپ مقابل حسن و محبت دونوں ہیں
گاہے راہی گاہے رہزن گاہے رہرو گاہے رہبر
گاہے جادہ گاہے منزل حسن و محبت دونوں ہیں
ایک حقیقت کے دو پہلو ہر پہلو میں لاکھوں پہلو
ہر جلوہ ہر دیدہ ہر دل حسن و محبت دونوں ہیں
دانہ دانہ خوشہ خوشہ مزرعہ مزرعہ بجلی بجلی
خرمن خرمن حاصل حاصل حسن و محبت دونوں ہیں
آپ ہیں دریا آپ ہیں کشتی آپ ہی کشتی باں اپنے
گاہے طوفاں گاہے ساحل حسن و محبت دونوں ہیں
عشق ذہینؔ ایمان ہے میرا حسن ہے مجھ کو جاں سے پیارا
میری فطرت ہی میں شامل حسن و محبت دونوں ہیں