جو پہچان آئے تو پہچان جائے
Zaheen Shah Taji (1902–1978)جو پہچان آئے تو پہچان جائے
مجھے جان جائے تمہیں جان جائے
مرا دین جائے کہ ایمان جائے
وہ من جائے مجھ سے مری مان جائے
اگر جان جاتی ہے تو جان جائے
وہ جان تغافل مگر جان جائے
وہ انسان کے دل میں جب گھر بنائیں
کہاں گھر بنانے کو انسان جائے
یہ انکار و اقرار چھوڑو کہ ان سے
نہ ایمان آئے نہ ایمان جائے
تمہاری تمنا کو دل سے نکالیں
کہاں گھر سے باہر یہ مہمان جائے
نہ ہو تم وہاں تو جنوں سے نہ ہوگا
کہ بیٹھے بٹھائے بیابان جائے
ذہینؔ ان کو ان سے الگ دیکھنا ہے
جہاں وہ نہ آئیں وہاں دھیان جائے