ان کی یاد آئے تو کچھ اس کا تقاضہ ہوگا

Zaheen Shah Taji (1902–1978)

ان کی یاد آئے تو کچھ اس کا تقاضہ ہوگا

سوچتا ہوں وہ رہے یاد تو پھر کیا ہوگا

چین تھا اس کی حضوری میں نہ دوری میں سکوں

عمر بھر اس کی محبت میں تڑپنا ہوگا

جس نے دیکھا تجھے اے دوست کھلی آنکھوں سے

وہ سمجھتا ہے کبھی خواب میں دیکھا ہوگا

کھل گیا راز اگر حسن کی یکتائی کا

ہم برا جس کو سمجھتے ہیں وہ اچھا ہوگا

خلوت آرا ہے بھری بزم میں وہ پیکر ناز

اپنی خلوت میں نہ کیوں انجمن آرا ہوگا

عالم ہوش ہو یا جلوہ گہ جاں ہو ذہینؔ

میں خود آیا نہیں کوئی مجھے لایا ہوگا