Poetry
- آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائےپھر سے کسی واعظ کو پریشان کیا جائےQateel Shifai (1919–2001)
- اب تو بیداد پہ بیداد کرے گی دنیاہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیاQateel Shifai (1919–2001)
- اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کومیں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کوQateel Shifai (1919–2001)
- اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوںآ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوںQateel Shifai (1919–2001)
- اتنے اونچے مرتبے تک تجھ کو پہنچائے گا کونمیں ہوا منکر تو پھر تیری قسم کھائے گا کونQateel Shifai (1919–2001)
- احترام لب و رخسار تک آ پہنچے ہیںبوالہوس بھی مرے معیار تک آ پہنچے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- اس ادا سے بھی ہوں میں آشنا تجھے اتنا جس پہ غرور ہےمیں جیوں گا تیرے بغیر بھی مجھے زندگی کا شعور ہےQateel Shifai (1919–2001)
- اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہےاچھا سہی قتیلؔ پہ بدنام بھی تو ہےQateel Shifai (1919–2001)
- اس دور میں توفیق انا دی گئی مجھ کوکس جرم کی آخر یہ سزا دی گئی مجھ کوQateel Shifai (1919–2001)
- اسے منا کر غرور اس کا بڑھا نہ دیناوہ سامنے آئے بھی تو اس کو صدا نہ دیناQateel Shifai (1919–2001)
- افق کے اس پار زندگی کے اداس لمحے گزار آؤںاگر مرا ساتھ دے سکو تم تو موت کو بھی پکار آؤںQateel Shifai (1919–2001)
- اک جام کھنکتا جام کہ ساقی رات گزرنے والی ہےاک ہوش ربا انعام کہ ساقی رات گزرنے والی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- اگرچہ مجھ کو جدائی تری گوارا نہیںسوائے اس کے مگر اور کوئی چارہ نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- الفت کی نئی منزل کو چلا تو بانہیں ڈال کے بانہوں میںدل توڑنے والے دیکھ کے چل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میںQateel Shifai (1919–2001)
- اندیشۂ ارباب حرم ساتھ رہے گاجنت بھی ملے گی تو یہ غم ساتھ رہے گاQateel Shifai (1919–2001)
- انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کیتم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کیQateel Shifai (1919–2001)
- اے دوست! تری آنکھ جو نم ہے تو مجھے کیامیں خوب ہنسوں گا تجھے غم ہے تو مجھے کیاQateel Shifai (1919–2001)
- اے دیدۂ گریاں کیا کہیے اس پیار بھرے افسانے کواک شمع جلی بجھنے کے لیے اک پھول کھلا مرجھانے کوQateel Shifai (1919–2001)
- بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دےاٹھا کے وہ تیری انجمن سے کہیں مجھے در بدر نہ کر دےQateel Shifai (1919–2001)
- بے خودی میں پہلوئے اقرار پہلے تو نہ تھااتنا غافل وہ بت عیار پہلے تو نہ تھاQateel Shifai (1919–2001)
- پربت پربت گھوم چکا ہوں صحرا صحرا چھان رہا ہوںہر منزل کے حق میں لیکن کافر کا ایمان رہا ہوںQateel Shifai (1919–2001)
- پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤسکوت مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جاؤQateel Shifai (1919–2001)
- پھول پہ دھول ببول پہ شبنم دیکھنے والے دیکھتا جااب ہے یہی انصاف کا عالم دیکھنے والے دیکھتا جاQateel Shifai (1919–2001)
- پیار دلار کے سائے سائے چلا کروجلتے لوگو کچھ تو اپنا بھلا کروQateel Shifai (1919–2001)
- پیار کی راہ میں ایسے بھی مقام آتے ہیںصرف آنسو جہاں انسان کے کام آتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- تتلیوں کا رنگ ہو یا جھومتے بادل کا رنگہم نے ہر اک رنگ کو جانا ترے آنچل کا رنگQateel Shifai (1919–2001)
- تڑپتی ہیں تمنائیں کسی آرام سے پہلےلٹا ہوگا نہ یوں کوئی دل ناکام سے پہلےQateel Shifai (1919–2001)
- تمام تر اسی خانہ خراب جیسا ہےمرے لہو کا نشہ بھی شراب جیسا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیںایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتےجو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتےQateel Shifai (1919–2001)
- تہہ میں جو رہ گئے وہ صدف بھی نکالئےطغیانیوں کا ہاتھ سمندر میں ڈالیےQateel Shifai (1919–2001)
- تھی ہم آغوشی مگر کچھ بھی مجھے حاصل نہ تھاوہ اک ایسا لمس تھا جس میں بدن شامل نہ تھاQateel Shifai (1919–2001)
- جانچ پرکھ کر دیکھ چکی تو ہر منہ بولے بھائی کوکہنے دے اب کوئی سچی بات قتیلؔ شفائی کوQateel Shifai (1919–2001)
- جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیامیں ریزہ ریزہ ہو کے حریفوں میں بٹ گیاQateel Shifai (1919–2001)
- جب سے اسیر زلف گرہ گیر ہو گیامیں بے نیاز حلقۂ زنجیر ہو گیاQateel Shifai (1919–2001)
- جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہےوہ تری تنگئ داماں کا گلا کرتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- جو بیت گئی اس کی خبر ہے کہ نہیں ہےدیکھو مرے تن پر مرا سر ہے کہ نہیں ہےQateel Shifai (1919–2001)
- جھمکتے جھومتے موسم کا دھوکا کھا رہا ہوں میںبہت لہرائے ہیں بادل مگر پیاسا رہا ہوں میںQateel Shifai (1919–2001)
- چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بالاک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگالQateel Shifai (1919–2001)
- چلو یوں ہی سہی ترک تعلق کر ہی لیتے ہیںجو تم خوش ہو تو ہم مرنے سے پہلے مر ہی لیتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- حادثے پھیل گئے سایۂ مژگاں کی طرحغم دوراں بھی ملا ہے غم جاناں کی طرحQateel Shifai (1919–2001)
- حالات سے خوف کھا رہا ہوںشیشے کے محل بنا رہا ہوںQateel Shifai (1919–2001)
- حالات کی اجڑی محفل میں اب کوئی سلگتا ساز نہیںنغمے تو لپکتے ہیں لیکن شعلوں سا کہیں انداز نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- حالات کی بھیگی رات بھی ہے جذبات کا تیز الاؤ بھیمیں کون سی آگ میں جل جاؤں اے نکتہ ورو سمجھاؤ بھیQateel Shifai (1919–2001)
- حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتاٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتاQateel Shifai (1919–2001)
- حدود جلوۂ کون و مکاں میں رہتے ہیںنہ جانے اہل نظر کس جہاں میں رہتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیںان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- حکایات لب و رخسار سے آگے نہیں جاتےوہ نغمے جو تمہارے پیار سے آگے نہیں جاتےQateel Shifai (1919–2001)
- خیال جبہ و دستار بھی نہیں باقیوہ کشمکش ہے کہ اک تار بھی نہیں باقیQateel Shifai (1919–2001)
- دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیںلوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)