احترام لب و رخسار تک آ پہنچے ہیں

Qateel Shifai (1919–2001)

احترام لب و رخسار تک آ پہنچے ہیں

بوالہوس بھی مرے معیار تک آ پہنچے ہیں

جو حقائق تھے وہ اشکوں سے ہم آغوش ہوئے

جو فسانے تھے وہ سرکار تک آ پہنچے ہیں

کیا وہ نظروں کو جھروکے میں معلق کر دیں

جو ترے سایۂ دیوار تک آ پہنچے ہیں

اپنی تقدیر کو روتے رہیں ساحل والے

جن کو آنا تھا وہ منجدھار تک آ پہنچے ہیں

اب تو کھل جائے گا شاید تری الفت کا بھرم

اہل دل جرأت اظہار تک آ پہنچے ہیں

ایک تم ہو کہ خدا بن کے چھپے بیٹھے ہو

ایک ہم ہیں کہ لب دار تک آ پہنچے ہیں