Poetry
- آ گئی یاد شام ڈھلتے ہیبجھ گیا دل چراغ جلتے ہیMunir Niazi (1928–2006)
- آئنہ اب جدا نہیں کرتاقید میں ہوں رہا نہیں کرتاMunir Niazi (1928–2006)
- آئی ہے اب یاد کیا رات اک بیتے سال کییہی ہوا تھی باغ میں یہی صدا گھڑیال کیMunir Niazi (1928–2006)
- ابھی مجھے اک دشت صدا کی ویرانی سے گزرنا ہےایک مسافت ختم ہوئی ہے ایک سفر ابھی کرنا ہےMunir Niazi (1928–2006)
- اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہناجاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہناMunir Niazi (1928–2006)
- اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیاچاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیاMunir Niazi (1928–2006)
- اپنے گھر کو واپس جاؤ رو رو کر سمجھاتا ہےجہاں بھی جاؤں میرا سایہ پیچھے پیچھے آتا ہےMunir Niazi (1928–2006)
- اتنے خاموش بھی رہا نہ کروغم جدائی میں یوں کیا نہ کروMunir Niazi (1928–2006)
- اس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیااک اور شہر یار میں آنے نہیں دیاMunir Niazi (1928–2006)
- اس شہر سنگ دل کو جلا دینا چاہئےپھر اس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہئےMunir Niazi (1928–2006)
- اس شہر کے یہیں کہیں ہونے کا رنگ ہےاس خاک میں کہیں کہیں سونے کا رنگ ہےMunir Niazi (1928–2006)
- اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھایہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھاMunir Niazi (1928–2006)
- اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستواس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستوMunir Niazi (1928–2006)
- اک تیز تیر تھا کہ لگا اور نکل گیاماری جو چیخ ریل نے جنگل دہل گیاMunir Niazi (1928–2006)
- اک عالم ہجراں ہی اب ہم کو پسند آیایہ خانۂ ویراں ہی اب ہم کو پسند آیاMunir Niazi (1928–2006)
- اک مسافت پاؤں شل کرتی ہوئی سی خواب میںاک سفر گہرا مسلسل زردیٔ مہتاب میںMunir Niazi (1928–2006)
- اگا سبزہ در و دیوار پر آہستہ آہستہہوا خالی صداؤں سے نگر آہستہ آہستہMunir Niazi (1928–2006)
- امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہترنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہتMunir Niazi (1928–2006)
- ان سے نین ملا کے دیکھویہ دھوکا بھی کھا کے دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
- اور ہیں کتنی منزلیں باقیجان کتنی ہے جسم میں باقیMunir Niazi (1928–2006)
- ایک میں اور اتنے لاکھوں سلسلوں کے سامنےایک صوت گنگ جیسے گنبدوں کے سامنےMunir Niazi (1928–2006)
- ایک نگر کے نقش بھلا دوں ایک نگر ایجاد کروںایک طرف خاموشی کر دوں ایک طرف آباد کروںMunir Niazi (1928–2006)
- بس ایک ماہ جنوں خیز کی ضیا کے سوانگر میں کچھ نہیں باقی رہا ہوا کے سواMunir Niazi (1928–2006)
- بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنےمیں ہی بس ہوتا ہوں اس کی اس ادا کے سامنےMunir Niazi (1928–2006)
- بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنااک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہناMunir Niazi (1928–2006)
- بے حقیقت دوریوں کی داستاں ہوتی گئییہ زمیں مثل سراب آسماں ہوتی گئیMunir Niazi (1928–2006)
- بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیااپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیاMunir Niazi (1928–2006)
- بے گانگی کا ابر گراں بار کھل گیاشب میں نے اس کو چھیڑا تو وہ یار کھل گیاMunir Niazi (1928–2006)
- پھول تھے بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھیدل میں لیکن اور ہی اک شکل کی حسرت بھی تھیMunir Niazi (1928–2006)
- پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھاوہ اس کا سایہ تھا کہ وہی رشک حور تھاMunir Niazi (1928–2006)
- تجھ سے بچھڑ کر کیا ہوں میں اب باہر آ کر دیکھہمت ہے تو میری حالت آنکھ ملا کر دیکھMunir Niazi (1928–2006)
- تھکن سے راہ میں چلنا محال بھی ہے مجھےکمال پر بھی تھا میں ہی زوال بھی ہے مجھےMunir Niazi (1928–2006)
- تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوںمیں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوںMunir Niazi (1928–2006)
- تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملیان بستیوں میں ہم کو رفاقت نہیں ملیMunir Niazi (1928–2006)
- جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیںکیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیںMunir Niazi (1928–2006)
- جفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میںوفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میںMunir Niazi (1928–2006)
- جو دیکھے تھے جادو ترے ہات کےہیں چرچے ابھی تک اسی بات کےMunir Niazi (1928–2006)
- جو مجھے بھلا دیں گے میں انہیں بھلا دوں گاسب غرور ان کا میں خاک میں ملا دوں گاMunir Niazi (1928–2006)
- چاند نکلا ہے سر قریۂ ظلمت دیکھوہو گئی کیسی سیہ خانوں کی رنگت دیکھوMunir Niazi (1928–2006)
- چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھانظر سے دل کا غبار اترا تو میں نے دیکھاMunir Niazi (1928–2006)
- خلش ہجر دائمی نہ گئیتیرے رخ سے یہ بے رخی نہ گئیMunir Niazi (1928–2006)
- خمار شب میں اسے میں سلام کر بیٹھاجو کام کرنا تھا مجھ کو وہ کام کر بیٹھاMunir Niazi (1928–2006)
- خواب و خیال گل سے کدھر جائے آدمیاک گلشن ہوا ہے جدھر جائے آدمیMunir Niazi (1928–2006)
- خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھےسوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھےMunir Niazi (1928–2006)
- خیال یکتا میں خواب اتنےسوال تنہا جواب اتنےMunir Niazi (1928–2006)
- دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیامیں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیاMunir Niazi (1928–2006)
- دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ گر رہاجب تک رہا میں ساتھ مرے یہ ہنر رہاMunir Niazi (1928–2006)
- دل خوف میں ہے عالم فانی کو دیکھ کرآتی ہے یاد موت کی پانی کو دیکھ کرMunir Niazi (1928–2006)
- دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرفیاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرفMunir Niazi (1928–2006)
- دل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیںاتنا خیال اس کا ہمیں اس برس نہیںMunir Niazi (1928–2006)