Poetry
- آندھیاں چلتی رہیں افلاک تھراتے رہےاپنا پرچم ہم بھی طوفانوں میں لہراتے رہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- آئے ہم غالبؔ و اقبالؔ کے نغمات کے بعدمصحفؔ عشق و جنوں حسن کی آیات کے بعدAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اب آ گیا ہے جہاں میں تو مسکراتا جاچمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ابھی اور تیز کر لے سر خنجر ادا کومرے خوں کی ہے ضرورت تری شوخئ حنا کوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہےاک رات ہے جو کٹی نہیں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- الجھے کانٹوں سے کہ کھیلے گل تر سے پہلےفکر یہ ہے کہ صبا آئے کدھر سے پہلےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- بیٹھے ہیں جہاں ساقی پیمانۂ زر لے کراس بزم سے اٹھ آئے ہم دیدۂ تر لے کرAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اوراس آدم خاکی نے بنایا ہے جہاں اورAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تمہارے اعجاز حسن کی میرے دل پہ لاکھوں عنایتیں ہیںتمہاری ہی دین میرے ذوق نظر کی ساری لطافتیں ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دےدل آوارہ کو پیغام گرفتاری دےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- خرد والو جنوں والوں کے ویرانوں میں آ جاؤدلوں کے باغ زخموں کے گلستانوں میں آ جاؤAli Sardar Jafri (1913–2000)
- خوگر روئے خوش جمال ہیں ہمناز پروردۂ وصال ہیں ہمAli Sardar Jafri (1913–2000)
- دل کی آگ جوانی کے رخساروں کو دہکائے ہےبہے پسینہ مکھڑے پر یا سورج پگھلا جائے ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ستاروں کے پیام آئے بہاروں کے سلام آئےہزاروں نامہ ہائے شوق اہل دل کے کام آئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- سرد ہیں دل آتش روئے نگاراں چاہئےشعلۂ رنگ بہار گل عذاراں چاہئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- شاخ گل ہے کہ یہ تلوار کھنچی ہے یاروباغ میں کیسی ہوا آج چلی ہے یاروAli Sardar Jafri (1913–2000)
- شبوں کی زلف کی روئے سحر کی خیر مناؤنگار شمس عروس قمر کی خیر مناؤAli Sardar Jafri (1913–2000)
- شکست شوق کو تکمیل آرزو کہیےجو تشنگی ہو تو پیمانہ و سبو کہیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- شمع کا مے کا شفق زار کا گلزار کا رنگسب ہیں اور سب سے جدا ہے لب دیدار کا رنگAli Sardar Jafri (1913–2000)
- صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہےجل رہی ہے کیا دھرتی عرش پہ دھواں کیوں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ظلم کی کچھ میعاد نہیں ہےداد نہیں فریاد نہیں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- عشق کا نغمہ جنوں کے ساز پر گاتے ہیں ہماپنے غم کی آنچ سے پتھر کو پگھلاتے ہیں ہمAli Sardar Jafri (1913–2000)
- عطر فردوس جواں میں یہ بسائے ہوئے ہونٹخون گلرنگ بہاراں میں نہائے ہوئے ہونٹAli Sardar Jafri (1913–2000)
- عقیدے بجھ رہے ہیں شمع جاں غل ہوتی جاتی ہےمگر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتیAli Sardar Jafri (1913–2000)
- فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرحاجالا بن کے رہو شمع رہ گزر کی طرحAli Sardar Jafri (1913–2000)
- فصل گل فصل خزاں جو بھی ہو خوش دل رہیےکوئی موسم ہو ہر اک رنگ میں کامل رہیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سواراستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سواAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کبھی خنداں کبھی گریاں کبھی رقصا چلیےدور تک ساتھ ترے عمر گریزاں چلیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھیں دل کے آنگن میںکتنے سورج ڈوب گئے ہیں چہروں کے پیلے پن میںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کھلے ہیں مشرق و مغرب کی گود میں گلزارمگر خزاں کو میسر نہیں یقین بہارAli Sardar Jafri (1913–2000)
- لغزش گام لیے لغزش مستانہ لیےآئے ہم بزم میں پھر جرأت رندانہ لیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- لو کے موسم میں بہاروں کی ہوا مانگتے ہیںہم کف دست خزاں پر بھی حنا مانگتے ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- مستیٔ رندانہ ہم سیرابیٔ مے خانہ ہمگردش تقدیر سے ہیں گردش پیمانہ ہمAli Sardar Jafri (1913–2000)
- موسم رنگ بھی ہے فصل خزاں بھی طاریدیکھنا خون کے دھبے ہیں کہ ہے گلکاریAli Sardar Jafri (1913–2000)
- میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک آؤمیری نظروں سے گزر کر دل و جاں تک آؤAli Sardar Jafri (1913–2000)
- نغمۂ زنجیر ہے اور شہر یاراں ان دنوںہے بہت اہل جنوں شور بہاراں ان دنوںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وطن سے دور یاران وطن کی یاد آتی ہےقفس میں ہم نوایان چمن کی یاد آتی ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وفور شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھلبوں کا پیار نگہ کی شکایتیں مت پوچھAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وہ مری دوست وہ ہمدرد وہ غم خوار آنکھیںایک معصوم محبت کی گنہ گار آنکھیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وہی حسن یار میں ہے وہی لالہ زار میں ہےوہ جو کیفیت نشے کی مے خوش گوار میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وہی ہے وحشت وہی ہے نفرت آخر اس کا کیا ہے سببانساں انساں بہت رٹا ہے انساں انساں بنے گا کبAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیںرنگ بر دوش گلستاں بہ کنار آتے ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یاد آئے ہیں عہد جنوں کے کھوئے ہوئے دل دار بہتان سے دور بسائی بستی جن سے ہمیں تھا پیار بہتAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ بے کس و بے قرار چہرےصدیوں کے یہ سوگوار چہرےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- آ رہا ہے اک ستارہ آسماں سے ٹوٹ کردوڑتا اپنے جنوں کی راہ پر دیوانہ وارAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اب بھی روشن ہیں وہی دست حنا آلودہریگ صحرا ہے نہ قدموں کے نشاں باقی ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ابھی ابھی مری بے خوابیوں نے دیکھی ہےفضائے شب میں ستاروں کی آخری پروازAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اٹھو ہند کے باغبانو اٹھواٹھو انقلابی جوانو اٹھوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اس پہ بھولے ہو کہ ہر دل کو کچل ڈالا ہےاس پہ بھولے ہو کہ ہر گل کو مسل ڈالا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اے مرے حسیں خوابوتم کہاں سے آئے ہوAli Sardar Jafri (1913–2000)