Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آندھیاں چلتی رہیں افلاک تھراتے رہےاپنا پرچم ہم بھی طوفانوں میں لہراتے رہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  2. آئے ہم غالبؔ‌ و اقبالؔ کے نغمات کے بعدمصحفؔ عشق و جنوں حسن کی آیات کے بعدAli Sardar Jafri (1913–2000)
  3. اب آ گیا ہے جہاں میں تو مسکراتا جاچمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جاAli Sardar Jafri (1913–2000)
  4. ابھی اور تیز کر لے سر خنجر ادا کومرے خوں کی ہے ضرورت تری شوخئ حنا کوAli Sardar Jafri (1913–2000)
  5. اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہےاک رات ہے جو کٹی نہیں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  6. الجھے کانٹوں سے کہ کھیلے گل تر سے پہلےفکر یہ ہے کہ صبا آئے کدھر سے پہلےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  7. بیٹھے ہیں جہاں ساقی پیمانۂ زر لے کراس بزم سے اٹھ آئے ہم دیدۂ تر لے کرAli Sardar Jafri (1913–2000)
  8. تخلیق پہ فطرت کی گزرتا ہے گماں اوراس آدم خاکی نے بنایا ہے جہاں اورAli Sardar Jafri (1913–2000)
  9. تمہارے اعجاز حسن کی میرے دل پہ لاکھوں عنایتیں ہیںتمہاری ہی دین میرے ذوق نظر کی ساری لطافتیں ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  10. چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دےدل آوارہ کو پیغام گرفتاری دےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  11. خرد والو جنوں والوں کے ویرانوں میں آ جاؤدلوں کے باغ زخموں کے گلستانوں میں آ جاؤAli Sardar Jafri (1913–2000)
  12. خوگر روئے خوش جمال ہیں ہمناز پروردۂ وصال ہیں ہمAli Sardar Jafri (1913–2000)
  13. دل کی آگ جوانی کے رخساروں کو دہکائے ہےبہے پسینہ مکھڑے پر یا سورج پگھلا جائے ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  14. ستاروں کے پیام آئے بہاروں کے سلام آئےہزاروں نامہ ہائے شوق اہل دل کے کام آئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  15. سرد ہیں دل آتش روئے نگاراں چاہئےشعلۂ رنگ بہار گل عذاراں چاہئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  16. شاخ گل ہے کہ یہ تلوار کھنچی ہے یاروباغ میں کیسی ہوا آج چلی ہے یاروAli Sardar Jafri (1913–2000)
  17. شبوں کی زلف کی روئے سحر کی خیر مناؤنگار‌ شمس عروس قمر کی خیر مناؤAli Sardar Jafri (1913–2000)
  18. شکست شوق کو تکمیل آرزو کہیےجو تشنگی ہو تو پیمانہ و سبو کہیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  19. شمع کا مے کا شفق زار کا گلزار کا رنگسب ہیں اور سب سے جدا ہے لب دیدار کا رنگAli Sardar Jafri (1913–2000)
  20. صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہےجل رہی ہے کیا دھرتی عرش پہ دھواں کیوں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  21. ظلم کی کچھ میعاد نہیں ہےداد نہیں فریاد نہیں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  22. عشق کا نغمہ جنوں کے ساز پر گاتے ہیں ہماپنے غم کی آنچ سے پتھر کو پگھلاتے ہیں ہمAli Sardar Jafri (1913–2000)
  23. عطر فردوس جواں میں یہ بسائے ہوئے ہونٹخون‌ گلرنگ بہاراں میں نہائے ہوئے ہونٹAli Sardar Jafri (1913–2000)
  24. عقیدے بجھ رہے ہیں شمع جاں غل ہوتی جاتی ہےمگر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتیAli Sardar Jafri (1913–2000)
  25. فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرحاجالا بن کے رہو شمع رہ گزر کی طرحAli Sardar Jafri (1913–2000)
  26. فصل گل فصل خزاں جو بھی ہو خوش دل رہیےکوئی موسم ہو ہر اک رنگ میں کامل رہیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  27. کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سواراستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سواAli Sardar Jafri (1913–2000)
  28. کبھی خنداں کبھی گریاں کبھی رقصا چلیےدور تک ساتھ ترے عمر گریزاں چلیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  29. کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھیں دل کے آنگن میںکتنے سورج ڈوب گئے ہیں چہروں کے پیلے پن میںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  30. کھلے ہیں مشرق و مغرب کی گود میں گلزارمگر خزاں کو میسر نہیں یقین بہارAli Sardar Jafri (1913–2000)
  31. لغزش گام لیے لغزش مستانہ لیےآئے ہم بزم میں پھر جرأت رندانہ لیےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  32. لو کے موسم میں بہاروں کی ہوا مانگتے ہیںہم کف دست خزاں پر بھی حنا مانگتے ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  33. مستیٔ رندانہ ہم سیرابیٔ مے خانہ ہمگردش تقدیر سے ہیں گردش پیمانہ ہمAli Sardar Jafri (1913–2000)
  34. موسم رنگ بھی ہے فصل خزاں بھی طاریدیکھنا خون کے دھبے ہیں کہ ہے گلکاریAli Sardar Jafri (1913–2000)
  35. میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک آؤمیری نظروں سے گزر کر دل و جاں تک آؤAli Sardar Jafri (1913–2000)
  36. نغمۂ زنجیر ہے اور شہر یاراں ان دنوںہے بہت اہل جنوں شور بہاراں ان دنوںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  37. وطن سے دور یاران وطن کی یاد آتی ہےقفس میں ہم نوایان چمن کی یاد آتی ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  38. وفور شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھلبوں کا پیار نگہ کی شکایتیں مت پوچھAli Sardar Jafri (1913–2000)
  39. وہ مری دوست وہ ہمدرد وہ غم خوار آنکھیںایک معصوم محبت کی گنہ گار آنکھیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  40. وہی حسن یار میں ہے وہی لالہ زار میں ہےوہ جو کیفیت نشے کی مے خوش گوار میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  41. وہی ہے وحشت وہی ہے نفرت آخر اس کا کیا ہے سببانساں انساں بہت رٹا ہے انساں انساں بنے گا کبAli Sardar Jafri (1913–2000)
  42. ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیںرنگ‌ بر دوش گلستاں بہ کنار آتے ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  43. یاد آئے ہیں عہد جنوں کے کھوئے ہوئے دل دار بہتان سے دور بسائی بستی جن سے ہمیں تھا پیار بہتAli Sardar Jafri (1913–2000)
  44. یہ بے کس و بے قرار چہرےصدیوں کے یہ سوگوار چہرےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  45. آ رہا ہے اک ستارہ آسماں سے ٹوٹ کردوڑتا اپنے جنوں کی راہ پر دیوانہ وارAli Sardar Jafri (1913–2000)
  46. اب بھی روشن ہیں وہی دست حنا آلودہریگ صحرا ہے نہ قدموں کے نشاں باقی ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  47. ابھی ابھی مری بے خوابیوں نے دیکھی ہےفضائے شب میں ستاروں کی آخری پروازAli Sardar Jafri (1913–2000)
  48. اٹھو ہند کے باغبانو اٹھواٹھو انقلابی جوانو اٹھوAli Sardar Jafri (1913–2000)
  49. اس پہ بھولے ہو کہ ہر دل کو کچل ڈالا ہےاس پہ بھولے ہو کہ ہر گل کو مسل ڈالا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  50. اے مرے حسیں خوابوتم کہاں سے آئے ہوAli Sardar Jafri (1913–2000)