خرد والو جنوں والوں کے ویرانوں میں آ جاؤ

Ali Sardar Jafri (1913–2000)

خرد والو جنوں والوں کے ویرانوں میں آ جاؤ

دلوں کے باغ زخموں کے گلستانوں میں آ جاؤ

یہ دامان و گریباں اب سلامت رہ نہیں سکتے

ابھی تک کچھ نہیں بگڑا ہے دیوانوں میں آ جاؤ

ستم کی تیغ خود دست ستم کو کاٹ دیتی ہے

ستم رانو تم اب اپنے عزا خانوں میں آ جاؤ

یہ کب تک سرد لاشیں بے حسی کے برف خانوں میں

چراغ درد سے روشن شبستانوں میں آ جاؤ

یہ کب تک سیم و زر کے جنگلوں میں مشق خونخواری

یہ انسانوں کی بستی ہے اب انسانوں میں آ جاؤ

کبھی شبنم کا قطرہ بن کے چمکو لالہ و گل پر

کبھی دریاؤں کی صورت بیابانوں میں آ جاؤ

ہوا ہے سخت اب اشکوں کے پرچم اڑ نہیں سکتے

لہو کے سرخ پرچم لے کے میدانوں میں آ جاؤ

جراحت خانۂ دل ہے تلاش رنگ و نکہت میں

کہاں ہو اے گلستانو گریبانوں میں آ جاؤ

زمانہ کر رہا ہے اہتمام جشن بے داری

گریباں چاک کر کے شعلہ دامانوں میں آ جاؤ