سفر حیات کا اب موت کے سراب میں ہے
Jalal Aarifسفر حیات کا اب موت کے سراب میں ہے
ہر ایک سانس ابھی پنجۂ عذاب میں ہے
سناتی آئی ہے دنیا جسے ازل سے وہی
ادھورے عشق کا قصہ مری کتاب میں ہے
ہوا اڑا کے نہ لے جائے یہ متاع حیات
ابھی تو بند یہ خوشبو گل حباب میں ہے
یہ بوجھ لاد کے میں اور کتنی دور چلوں
سنا ہے شہر وفا پردۂ سراب میں ہے
شب فراق کی تنہائیوں کو ڈسنے دو
کہ مہر صبح ابھی میرے رعب و داب میں ہے
یہی تو جذبہ مجھے قتل گہہ میں لے آیا
وہ بے نقاب تو ہوگا جو اب نقاب میں ہے
سزا وفاؤں کی دی ہے خطا معاف ہوئی
یہ الٹی گنتی بھی ان کے عجب حساب میں ہے
سوار توسن ہستی ہوں اس سلیقے سے
لگام ہاتھ میں عارفؔ نہ پا رکاب میں ہے