خیال اتنا ستم ایجاد رکھنا

نواب امراوبہادر دلیر

خیال اتنا ستم ایجاد رکھنا

وفائیں کچھ ہماری یاد رکھنا

نہیں شکوہ جو رکھا ہم کو ناشاد

قیامت ہے عدو کو شاد رکھنا

بتا کیا تھا کہ مجھ کو قتل کر کے

جگر پر ہاتھ او جلاد رکھنا

عدو کے ساتھ کرنا عیش و عشرت

ہمیں او بے وفا ناشاد رکھنا

جو محفل میں ہو تیری دور ساغر

ذرا ساقی ہمیں بھی یاد رکھنا

کھنچے اس شوخ کی تصویر دل کش

ادا کوئی نئی بہزاد رکھنا

مجھے دنیا سے جس بت نے مٹایا

خدایا تو اسے آباد رکھنا

مرا دل نازوں کا پالا ہوا ہے

لئے جاتے ہو اس کو شاد رکھنا

کہیں مل جائے دل اس کا نہ اے دل

خیال اتنا دم فریاد رکھنا

غضب ہے تجھ کو او قاتل نہ آیا

گلے پر خنجر فولاد رکھنا

دلیرؔ اتنا کہے دیتے ہیں تم سے

خیال خاطر جلاد رکھنا