اتنی خطا ہوئی کہ ہنسے تھے کسی کے ساتھ

Jalal Aarif

اتنی خطا ہوئی کہ ہنسے تھے کسی کے ساتھ

اب رو رہے ہیں بیٹھ کے ہم زندگی کے ساتھ

راحت کے ساتھ دکھ ہے تو آنسو ہنسی کے ساتھ

گہرا ہے کتنا غم کا تعلق خوشی کے ساتھ

اپنا چلن بدلنے لگے وقت کی طرح

ملتے تھے جو ہر اک سے بڑی سادگی کے ساتھ

سائے سروں پہ موت کے منڈلاتے ہیں مگر

ہم پھر بھی جی رہے ہیں علو ہمتی کے ساتھ

کس کو تمہارے درد سے دل بستگی نہیں

رونق ہے انجمن کی اسی روشنی کے ساتھ

شاید وفا شناس نظر کا قصور ہے

عارفؔ سلوک ان کا جو ہے بے رخی کے ساتھ