دور رہتے ہوئے نزدیک رگ جاں بھی رہے

Jalal Aarif

دور رہتے ہوئے نزدیک رگ جاں بھی رہے

دشمن دل بھی رہے دل کے نگہباں بھی رہے

ڈوب جاتے ہیں کنارے بھی کبھی موجوں سے

اہل ساحل ذرا اندازۂ طوفاں بھی رہے

ان کا انداز محبت بھی نرالا دیکھا

مجھ میں شامل بھی رہے مجھ سے گریزاں بھی رہے

میں ترے قرب کا وہ دور بھلاؤں کیسے

تیرے گیسو مرے شانوں پہ پریشاں بھی رہے

جس پہ لوگوں کو فرشتوں کا گماں ہو جائے

کاش اس دور میں ایسا کوئی انساں بھی رہے

ہم کو منظور نہیں تھی جو نمائش اپنی

بزم میں مثل چراغ تہہ داماں بھی رہے

غم جاناں کا تعلق تو ہے دل سے لیکن

ہم وہی ہیں جو حریف غم دوراں بھی رہے

دیدۂ دل سے محبت کا تقاضا ہے یہی

تشنۂ دید رہے دید کا ارماں بھی رہے

آج دامن میں بس اک دولت غم ہے عارفؔ

ان کی الفت میں کبھی بے سر و ساماں بھی رہے