عشق بے خود تھا بے حجاب آیا
Jalal Aarifعشق بے خود تھا بے حجاب آیا
حسن ڈالے ہوئے نقاب آیا
مہر بر لب کھڑے تھے اہل وفا
بے سوال آپ کا جواب آیا
ہم دکھائیں گے حشر میں ناصح
کس کے حصے میں کیا حساب آیا
پیار ان کا نظر کا دھوکا تھا
پانی ڈھونڈا نظر سراب آیا
چلو اچھے ہیں بخت بھی عارفؔ
غم تو حصے میں بے حساب آیا