بحث بے کار کر رہا ہوں میں
Ehsaan Sabzبحث بے کار کر رہا ہوں میں
جبر ناچار کر رہا ہوں میں
دل دھڑکنے کو اب نہیں راضی
دل کو تیار کر رہا ہوں میں
کیوں سزا دے نہیں رہے آخر
جب کہ اقرار کر رہا ہوں میں
کس طرح ایک سخت پتھر سے
دیکھو تکرار کر رہا ہوں میں
خود کو اچھی طرح سے دیکھ لیا
خود سے انکار کر رہا ہوں میں
جانتا ہوں جواب میں اس کا
پھر بھی اصرار کر رہا ہوں میں
وہ جو چھپ کر نہ کر سکا کوئی
بیچ بازار کر رہا ہوں میں
جو دوا کے لئے چلے آئے
ان کو بیمار کر رہا ہوں