وہیں پر ہوں جہاں رکتا رہا ہوں
Ehsaan Sabzوہیں پر ہوں جہاں رکتا رہا ہوں
میں اپنے آپ سے اکتا رہا ہوں
گزرتی عمر کے ہم راہ خود پر
صحیفوں کی طرح کھلتا رہا ہوں
سنو میری بھی کچھ اب تو خدارا
تمہاری بھی تو میں سنتا رہا ہوں
جو کیں ہیں پیش تم نے کیا بتاؤں
ہر اک منطق پہ سر دھنتا رہا ہوں
بچانے خود کو اپنی ہی تپش سے
میں اپنے سائے میں چھپتا رہا ہوں
بہت ڈھونڈا ہے میں نے خود کو لیکن
اسی کوشش میں خود گمتا رہا ہوں
چلے آتے ہیں روزانہ ڈرانے
وہ جن کے قرض میں چکتا رہا ہوں
پرائے شہر میں یاروں سے کٹ کر
غریبوں کی طرح رلتا رہا ہوں
یہ قیمت کم ہے شاید میں تمہارے
ترازو میں غلط تلتا رہا ہوں
نہیں عادت مجھے پینے کی میں تو
تمہاری یاد میں گھلتا رہا ہوں
چلے آؤ کہ رستہ صاف ہے اب
میں کانٹے راہ کے چنتا رہا ہوں