ہوائیں چلتے چلتے تھک گئی ہیں
Zafar Mehdiہوائیں چلتے چلتے تھک گئی ہیں
دعاؤں میں اثر جاتا رہا ہے
فضائے حبس ہے عالم پہ چھائی
ہمارے دین و دل گروی پڑے ہیں
ہر اک سو ظالمانہ وحشتوں کا رقص جاری ہے
جدھر دیکھو وہیں انسانیت کا آئنہ ٹوٹا ہوا
بکھرا پڑا ہے
اسی کی کرچیوں میں ہی کہیں امید کی لو ٹمٹماتی ہے
اسی کا عکس ہی موہوم سا
اک روشنی کا استعارہ ہے
یہی پیغام دیتا ہے
کوئی ساعت بھی ہو پیہم نہیں رہتی
بدلتے موسموں کا نام ہے نیرنگیٔ فطرت
ہوائیں چلتے چلتے تھک گئی تھیں
ہوائیں رک کے پھر چلنے لگی ہیں