آرزو پہ جفا کرے کوئی

احمد شاہ خاں شبنم

آرزو پہ جفا کرے کوئی

پھر خفا ہو خدا کرے کوئی

یہ بھی انصاف ہے کوئی اے چرخ

روئیں ہم اور ہنسا کرے کوئی

بات پوری کبھی سنی ہی نہیں

مدعا عرض کیا کرے کوئی

خاک میں مل گیا میں آخر کار

اور جور و جفا کرے کوئی

جب تمہیں یوں جواب دے دو صاف

کس سے پھر التجا کرے کوئی

چھم سے آ جائے میرے پہلو میں

شب فرقت خدا کرے کوئی

کہہ رہی ہیں کسی کی شوخ آنکھیں

کیوں کسی سے حیا کرے کوئی

یہ تو کہتے ہو دل کو سمجھاؤ

دل نہ سمجھے تو کیا کرے کوئی

سب حسیں بے وفا ہیں اے شبنمؔ

کیا کسی سے وفا کرے کوئی