زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتے
Ehsaan Sabzزباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتے
زمیں نہ ہوتی قدم نہ ہوتے
کوئی جو تھوڑا لحاظ کرتا
کسی پہ اتنے ستم نہ ہوتے
ہمارا چہرہ بھی کھلکھلاتا
جو دل میں رنج و الم نہ ہوتے
کسی بھی رستے پہ چل نکلتے
مگر یوں سوئے عدم نہ ہوتے
ذرا جو خود پر دھیان دیتے
ہمارے عشاق بھی کم نہ ہوتے
کہا کسی کا جو مان لیتے
حیا سے گردن میں خم نہ ہوتے
کہیں بھی ہوتے بنا ہم ان کے
یہاں خدا کی قسم نہ ہوتے
ہزار باتوں کا ہے خلاصہ
جو وہ نہ ہوتے تو ہم نہ ہوتے