بے وجہ دل جلوں کو جلانے سے کیا غرض
احمد شاہ خاں شبنمبے وجہ دل جلوں کو جلانے سے کیا غرض
مطلب ہی جب نہیں تو ستانے سے کیا غرض
تم سے بگڑ گئی تو جہاں سے بگڑ گئی
تم سے غرض نہیں تو زمانے سے کیا غرض
منظور اگر نہیں کشش عشق دیکھنا
کھینچے سے کیا غرض ہے نہ آنے سے کیا غرض
جب تم کو واسطہ ہی نہیں کچھ رقیب سے
پھر روز اس کی بزم میں جانے سے کیا غرض
شبنمؔ کی طرح کون ہو نالاں شب فراق
ہم کو کسی کی نیند اڑانے سے کیا غرض