کیسی تنہائی ہے نظاروں میں
Ehsaan Sabzکیسی تنہائی ہے نظاروں میں
سانس رکتا ہے خار زاروں میں
یہ جو چہرہ ہے کتنا بوجھل ہے
درد ہے کس قدر شراروں میں
میں اسے یاد کر کے روتا ہوں
بس وہی ایک تھا ہزاروں میں
خوشبوئیں اس کی ساتھ لاتے ہیں
پھول کھلتے ہیں جب بہاروں میں
آج کھڑکی میں اس نے آنا ہے
لگ گئے ہیں سبھی قطاروں میں
ٹمٹما کر بلا رہے ہیں جو
آؤ چلتے ہیں ان ستاروں میں
یہ جو سب ہیں یہ کتنے دل کش ہیں
فرق کیسے کروں میں پیاروں میں
یہ رکھو یہ تمہارا اپنا ہے
شرم ہوتی نہیں ہے یاروں میں
راستہ ہے نہ جن کی منزل ہے
سبزؔ شامل ہے ان سواروں میں