میں خود کو آزمانا چاہتا ہوں
Zafar Mehdiمیں خود کو آزمانا چاہتا ہوں
ہوا پر آشیانہ چاہتا ہوں
جو ہمت ہے تو میرے ساتھ آؤ
افق کے پار جانا چاہتا ہوں
جو منت کش نہیں ہیں بال و پر کے
پرندے وہ اڑانا چاہتا ہوں
نگوں کر دے جو طوفانوں کا سر بھی
چراغ ایسا جلانا چاہتا ہوں
سکوں بخشے جو ہر آشفتہ سر کو
نظر آ جائے جس میں عکس جاں بھی
وہ آئینہ بنانا چاہتا ہوں
سراسیمہ پشیماں دل گرفتہ
میں یہ موسم ہٹانا چاہتا ہوں
خیال و خواب جن میں حکمراں ہوں
وہی دنیا بسانا چاہتا ہوں
زیادہ مل گئی رونے سے راحت
ظفرؔ اب مسکرانا چاہتا ہوں