میرے قبضے میں لب کشائی ہے

Zafar Mehdi

میرے قبضے میں لب کشائی ہے

اب اسیری نہیں رہائی ہے

باب گلشن کھلا جو اس سے ملے

گل صد برگ آشنائی ہے

اک مسلسل سفر میں رہتا ہوں

مجھ کو شوق شکستہ پائی ہے

ذکر اس کا رہے گا محشر تک

جس نے آواز حق سنائی ہے

ان کا دامن بھی آج تر دیکھا

وہ جنہیں زعم پارسائی ہے

منزلوں پر پہنچ کے رک جانا

وجہ توہین رہنمائی ہے

خواب ہے ان سے گفتگو کرنا

نارسائی سی نارسائی ہے

کس قدر آشنا لگی ہے ظفرؔ

اک کٹھن رہ گزر جو آئی ہے