تیرے در پہ جلوہ جو ہم دیکھتے ہیں

احمد شاہ خاں شبنم

تیرے در پہ جلوہ جو ہم دیکھتے ہیں

خدا کی خدائی میں کم دیکھتے ہیں

جو ہم شب کو خواب عدم دیکھتے ہیں

تو ہر سمت سیر ارم دیکھتے ہیں

پس مرگ خلوت میں بیٹھے ہیں ایسے

نہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں

تمہاری سی صورت تمہاری سی سیرت

حسینوں کے جمگھٹ میں کم دیکھتے ہیں

نظر کی نظر سے ہے حسرت بھرا دل

نظر بھر کے ان کو نہ ہم دیکھتے ہیں

نہ مانوں گا جاگے کہیں رات بھر ہو

بھری نیند آنکھوں میں ہم دیکھتے ہیں

شب ہجر روتے گزرتی ہے شبنمؔ

فنا ہی فنا صبح دم دیکھتے ہیں