جب یہ پوچھا کہ کب ملیں گے آپ
احمد شاہ خاں شبنمجب یہ پوچھا کہ کب ملیں گے آپ
ہنس کے بولے کہ جب ملیں گے آپ
وصل میں بھی وہی کھنچاوٹ ہے
ہم نے جانا تھا اب ملیں گے آپ
یہ لگی لپٹی باتیں خوب نہیں
صاف کہئے کہ کب ملیں گے آپ
کھینچنے والے جب ہی تک ہیں کھنچے
مل گئے تم تو سب ملیں گے آپ
دیکھ پایا ہے کچھ تو شبنمؔ میں
کس سے یوں بے سبب ملیں گے آپ