Poetry

Poet
Meter
  1. نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھیلگے ہوئے تھے امیدوں کو میری پر پھر بھیYasmin Husaini Zaidi Nikhat
  2. وہ ہوئے ایسے مہرباں مجھ پربار ہونے لگا جہاں مجھ پرYasmin Husaini Zaidi Nikhat
  3. اب کہاں جائیں غم بھلانے کوچھوڑ کر تیرے آستانہ کوZabt Sitapuri
  4. اے دل تجھے کیا وقت کی پہچان نہیں ہےاب ان سے ملاقات کا امکان نہیں ہےZabt Sitapuri
  5. بہار اپنی نہ گل اپنے نہ صحن گلستاں اپنابنا لیں کیوں نہ ویرانے میں جا کر آشیاں اپناZabt Sitapuri
  6. دل اگر درد آشنا نہ ہوااس کا ہونا ہی کیا ہوا نہ ہواZabt Sitapuri
  7. راتیں وہ دل فریب بہاریں وہ خواب کیپیری میں یاد آئی ہیں باتیں شباب کیZabt Sitapuri
  8. فکر کعبہ کچھ ہے کچھ ہے شوق بت خانہ مجھےدل بہلنے کو ہے کافی بزم رندانہ مجھےZabt Sitapuri
  9. فکر کیا اس کی یہ دل اور جگر کیا ہوگاتیرے سودائی کو اندیشۂ سر کیا ہوگاZabt Sitapuri
  10. کعبہ نظر میں ہے نہ ہے بت خانہ آج کلرہتی ہے گرم محفل رندانہ آج کلZabt Sitapuri
  11. کعبے کا تمنائی ہے کوئی مشتاق کوئی بت خانے کاان عقل کے دیوانے سے جدا عالم ہے ترے دیوانے کاZabt Sitapuri
  12. کہا جو ان سے کہ اب بے قرار ہم بھی ہیںتو ہنس کے کہتے ہیں بے اختیار ہم بھی ہیںZabt Sitapuri
  13. کہیں نباہ کی صورت نہیں زمانے میںقفس میں چین نہ راحت ہے آشیانے میںZabt Sitapuri
  14. مفت میں کیوں لیں شب غم موت کے آنے کا نامحوصلے کا پست ہو جانا ہے مر جانے کا نامZabt Sitapuri
  15. میں راز غم عشق سے بیگانہ نہیں ہوںایسا ہوں پیالہ جو محبت سے ہے لبریزZabt Sitapuri
  16. نہ جانے وعدے کا کیوں اعتبار اب بھی ہےگزر گئی ہے شب اور انتظار اب بھی ہےZabt Sitapuri
  17. تنہائی (عظیم الدین احمد)عظیم الدین احمد
  18. ہائے جوانیعظیم الدین احمد
  19. انسانعظیم الدین احمد
  20. بیکسی عشقعظیم الدین احمد
  21. موت و حیاتعظیم الدین احمد
  22. کوئلعظیم الدین احمد
  23. عندلیبعظیم الدین احمد
  24. ہجرعظیم الدین احمد
  25. برسات اور شاعرعظیم الدین احمد
  26. تصویر خیالیعظیم الدین احمد
  27. یورپ کی زندگیعظیم الدین احمد
  28. زبان درگورعظیم الدین احمد
  29. عشق و دوستیعظیم الدین احمد
  30. وقتعظیم الدین احمد
  31. آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہواانگشتری بنا مرا تن وہ نگیں ہواامانت لکھنوی
  32. الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آجنازل ہوئی بلا مرے سر پر کہاں سے آجامانت لکھنوی
  33. بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سبراحت جاں کوئی دلبر نہیں جلاد ہیں سبامانت لکھنوی
  34. بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیںمستی میں نہیں غافل ہشیار اسے کہتے ہیںامانت لکھنوی
  35. خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سداگھر عبث ہو پوچھتے مجھ خانماں برباد کاامانت لکھنوی
  36. دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورتاستادہ ہیں ہم باغ میں شمشاد کی صورتامانت لکھنوی
  37. رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرحگرہ میں رکھتے ہیں ہم آبرو گہر کی طرحامانت لکھنوی
  38. روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیادشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیاامانت لکھنوی
  39. زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیامنہ نہ کھولا تھا کہ پر باندھنے صیاد آیاامانت لکھنوی
  40. صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیامرغ سحر کے بولتے ہی دم نکل گیاامانت لکھنوی
  41. گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفیدکیوں نہ ہو خوف اجل سے یہ سیہ کار سفیدامانت لکھنوی
  42. لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیںمے نہیں یار نہیں شیشہ نہیں جام نہیںامانت لکھنوی
  43. ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتیپوشاک جو پہنے ہے مرا یار بسنتیامانت لکھنوی
  44. بھول کر پہلوئے امید میں آیا نہ گیاجو پتا ہم کو بتایا تھا وہ پایا نہ گیاعبد الہادی وفا
  45. بے کسی نے گھر بنایا میرے گھر کے سامنےرو رہا ہوں بیٹھ کر دیوار و در کے سامنےعبد الہادی وفا
  46. پھر رگ شعلۂ جاں سوز میں نشتر گزرانالہ کیوں آبلۂ دل سے الجھ کر گزراعبد الہادی وفا
  47. حیرت کو مژدہ گرم ہے بازار آئینہخوبان خود نما ہیں خریدار آئینہعبد الہادی وفا
  48. دل میں رہ کر چھپا کرے کوئیآنکھ بن کر حیا کرے کوئیعبد الہادی وفا
  49. دو جہاں کو نگہ عجز سے اکثر دیکھاہم نے امید کو حرماں کے برابر دیکھاعبد الہادی وفا
  50. کام آساں نظر آیا مجھے مشکل ہو کرحاصل عمر ملا حسرت حاصل ہو کرعبد الہادی وفا