Poetry
Poet
Meter
- نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھیلگے ہوئے تھے امیدوں کو میری پر پھر بھیYasmin Husaini Zaidi Nikhat
- وہ ہوئے ایسے مہرباں مجھ پربار ہونے لگا جہاں مجھ پرYasmin Husaini Zaidi Nikhat
- اب کہاں جائیں غم بھلانے کوچھوڑ کر تیرے آستانہ کوZabt Sitapuri
- اے دل تجھے کیا وقت کی پہچان نہیں ہےاب ان سے ملاقات کا امکان نہیں ہےZabt Sitapuri
- بہار اپنی نہ گل اپنے نہ صحن گلستاں اپنابنا لیں کیوں نہ ویرانے میں جا کر آشیاں اپناZabt Sitapuri
- دل اگر درد آشنا نہ ہوااس کا ہونا ہی کیا ہوا نہ ہواZabt Sitapuri
- راتیں وہ دل فریب بہاریں وہ خواب کیپیری میں یاد آئی ہیں باتیں شباب کیZabt Sitapuri
- فکر کعبہ کچھ ہے کچھ ہے شوق بت خانہ مجھےدل بہلنے کو ہے کافی بزم رندانہ مجھےZabt Sitapuri
- فکر کیا اس کی یہ دل اور جگر کیا ہوگاتیرے سودائی کو اندیشۂ سر کیا ہوگاZabt Sitapuri
- کعبہ نظر میں ہے نہ ہے بت خانہ آج کلرہتی ہے گرم محفل رندانہ آج کلZabt Sitapuri
- کعبے کا تمنائی ہے کوئی مشتاق کوئی بت خانے کاان عقل کے دیوانے سے جدا عالم ہے ترے دیوانے کاZabt Sitapuri
- کہا جو ان سے کہ اب بے قرار ہم بھی ہیںتو ہنس کے کہتے ہیں بے اختیار ہم بھی ہیںZabt Sitapuri
- کہیں نباہ کی صورت نہیں زمانے میںقفس میں چین نہ راحت ہے آشیانے میںZabt Sitapuri
- مفت میں کیوں لیں شب غم موت کے آنے کا نامحوصلے کا پست ہو جانا ہے مر جانے کا نامZabt Sitapuri
- میں راز غم عشق سے بیگانہ نہیں ہوںایسا ہوں پیالہ جو محبت سے ہے لبریزZabt Sitapuri
- نہ جانے وعدے کا کیوں اعتبار اب بھی ہےگزر گئی ہے شب اور انتظار اب بھی ہےZabt Sitapuri
- تنہائی (عظیم الدین احمد)عظیم الدین احمد
- ہائے جوانیعظیم الدین احمد
- انسانعظیم الدین احمد
- بیکسی عشقعظیم الدین احمد
- موت و حیاتعظیم الدین احمد
- کوئلعظیم الدین احمد
- عندلیبعظیم الدین احمد
- ہجرعظیم الدین احمد
- برسات اور شاعرعظیم الدین احمد
- تصویر خیالیعظیم الدین احمد
- یورپ کی زندگیعظیم الدین احمد
- زبان درگورعظیم الدین احمد
- عشق و دوستیعظیم الدین احمد
- وقتعظیم الدین احمد
- آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہواانگشتری بنا مرا تن وہ نگیں ہواامانت لکھنوی
- الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آجنازل ہوئی بلا مرے سر پر کہاں سے آجامانت لکھنوی
- بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سبراحت جاں کوئی دلبر نہیں جلاد ہیں سبامانت لکھنوی
- بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیںمستی میں نہیں غافل ہشیار اسے کہتے ہیںامانت لکھنوی
- خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سداگھر عبث ہو پوچھتے مجھ خانماں برباد کاامانت لکھنوی
- دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورتاستادہ ہیں ہم باغ میں شمشاد کی صورتامانت لکھنوی
- رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرحگرہ میں رکھتے ہیں ہم آبرو گہر کی طرحامانت لکھنوی
- روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیادشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیاامانت لکھنوی
- زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیامنہ نہ کھولا تھا کہ پر باندھنے صیاد آیاامانت لکھنوی
- صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیامرغ سحر کے بولتے ہی دم نکل گیاامانت لکھنوی
- گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفیدکیوں نہ ہو خوف اجل سے یہ سیہ کار سفیدامانت لکھنوی
- لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیںمے نہیں یار نہیں شیشہ نہیں جام نہیںامانت لکھنوی
- ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتیپوشاک جو پہنے ہے مرا یار بسنتیامانت لکھنوی
- بھول کر پہلوئے امید میں آیا نہ گیاجو پتا ہم کو بتایا تھا وہ پایا نہ گیاعبد الہادی وفا
- بے کسی نے گھر بنایا میرے گھر کے سامنےرو رہا ہوں بیٹھ کر دیوار و در کے سامنےعبد الہادی وفا
- پھر رگ شعلۂ جاں سوز میں نشتر گزرانالہ کیوں آبلۂ دل سے الجھ کر گزراعبد الہادی وفا
- حیرت کو مژدہ گرم ہے بازار آئینہخوبان خود نما ہیں خریدار آئینہعبد الہادی وفا
- دل میں رہ کر چھپا کرے کوئیآنکھ بن کر حیا کرے کوئیعبد الہادی وفا
- دو جہاں کو نگہ عجز سے اکثر دیکھاہم نے امید کو حرماں کے برابر دیکھاعبد الہادی وفا
- کام آساں نظر آیا مجھے مشکل ہو کرحاصل عمر ملا حسرت حاصل ہو کرعبد الہادی وفا