میں راز غم عشق سے بیگانہ نہیں ہوں

Zabt Sitapuri

میں راز غم عشق سے بیگانہ نہیں ہوں

ایسا ہوں پیالہ جو محبت سے ہے لبریز

بھر کر جو چھلک جائے وہ پیمانہ نہیں ہوں

وہ سوز محبت ہوں جو پنہاں رہے دل میں

آ جائے جو لب پر میں وہ افسانہ نہیں ہوں

میں آرزوئے دید میں گھلتا ہوں شب و روز

جو شمع پہ جل جائے وہ پروانہ نہیں ہوں

اب جادۂ الفت میں جنوں راہنما ہے

گم گشتہ منزل ہو وہ فرزانہ نہیں ہوں

پر کیف مئے عشق سے پیمانۂ دل ہے

صد شکر کہ اب تشنۂ خم خانہ نہیں ہوں

داغ دل مجروح ہے ہم رنگ گلستاں

جلووں کا خزانہ ہوں میں ویرانہ نہیں ہوں

خود قلب مرا جلوہ گہ حسن ازل ہے

اے ضبطؔ میں جویائے صنم خانہ نہیں ہوں