کعبے کا تمنائی ہے کوئی مشتاق کوئی بت خانے کا

Zabt Sitapuri

کعبے کا تمنائی ہے کوئی مشتاق کوئی بت خانے کا

ان عقل کے دیوانے سے جدا عالم ہے ترے دیوانے کا

ناصح تو نصیحت دل کو نہ کر موقع یہ نہیں سمجھانے کا

جانا ہے سوئے بزم جاناں اک سوز لئے پروانے کا

اس رنگ برنگی دنیا میں آرام و سکوں کا نام نہیں

اک عالم کیف و مستی میں داخل جو ہوئے میخانے میں

ساقی کو کیا سجدہ جھک کر منہ چوم لیا پیمانے کا

کہہ دو یہ فراغت والوں سے دنیا میں سنبھل کر رہنا ہے

کل تک جو یہاں آسودہ تھا محتاج ہے دانے دانے کا

سب مفت گنوایا پاس جو تھا اب ضبطؔ چلو تم اپنے گھر

جی بھر کے تماشا دیکھ چکے دنیا کے عجائب خانے کا