اب کہاں جائیں غم بھلانے کو
Zabt Sitapuriاب کہاں جائیں غم بھلانے کو
چھوڑ کر تیرے آستانہ کو
خوف دنیا نہ فکر عقبیٰ کی
چل دیا میں شراب خانے کو
اس فریب ادا کے ہم صدقے
دل لیا بھی تو آزمانے کو
چشم اگر ہو تو محو ذوق نظر
دل اگر ہو تو غم اٹھانے کو
ہم تو برباد ہو گئے پھر بھی
لطف آیا نہ کچھ زمانے کو
وعدۂ وصل کر کے وہ روٹھے
ضبطؔ جاتے ہیں اب منانے کو