اے دل تجھے کیا وقت کی پہچان نہیں ہے

Zabt Sitapuri

اے دل تجھے کیا وقت کی پہچان نہیں ہے

اب ان سے ملاقات کا امکان نہیں ہے

تیور نہ ہوں انساں کے تو کچھ جان نہیں ہے

کیا خط ہے وہ جس کا کوئی عنوان نہیں ہے

کیوں جوش محبت کا وہ طوفان نہیں ہے

کیا دل نہیں سینے میں ہے کیا جان نہیں ہے

غم شرط ہے دوراں کا ہو یا ہو غم جاناں

جس کو نہ کوئی غم ہو وہ انسان نہیں ہے

آئے ہیں مرے جذب محبت کے اثر سے

کچھ ان کی عنایات کا احسان نہیں ہے

دشمن کا سمجھ لینا تو دشوار نہیں ضبطؔ

پر دوست کی پہچان تو آسان نہیں ہے