اے دل تجھے کیا وقت کی پہچان نہیں ہے
Zabt Sitapuriاے دل تجھے کیا وقت کی پہچان نہیں ہے
اب ان سے ملاقات کا امکان نہیں ہے
تیور نہ ہوں انساں کے تو کچھ جان نہیں ہے
کیا خط ہے وہ جس کا کوئی عنوان نہیں ہے
کیوں جوش محبت کا وہ طوفان نہیں ہے
کیا دل نہیں سینے میں ہے کیا جان نہیں ہے
غم شرط ہے دوراں کا ہو یا ہو غم جاناں
جس کو نہ کوئی غم ہو وہ انسان نہیں ہے
آئے ہیں مرے جذب محبت کے اثر سے
کچھ ان کی عنایات کا احسان نہیں ہے
دشمن کا سمجھ لینا تو دشوار نہیں ضبطؔ
پر دوست کی پہچان تو آسان نہیں ہے