وہ ہوئے ایسے مہرباں مجھ پر

Yasmin Husaini Zaidi Nikhat

وہ ہوئے ایسے مہرباں مجھ پر

بار ہونے لگا جہاں مجھ پر

کتنی شفاف زندگانی تھی

اب تو چھانے لگا دھواں مجھ پر

اس نے آ کر نہ کچھ صفائی دی

قصے ہوتے رہے بیاں مجھ پر

گل کے مانند یہ سراپا تھا

جانے کب آ گئی خزاں مجھ پر

میرے دم سے چمن میں رنگت تھی

رشک کرتی تھیں تتلیاں مجھ پر

میں جہاں سے چلی بھی جاؤں تو

کیا کرے گا کوئی فغاں مجھ پر

جب بھی اس نے سنی نہ بات مری

کتنی باتیں ہوئیں عیاں مجھ پر

اب تو نکہتؔ نہیں ہے پھولوں میں

پھر بھی اٹھتی ہیں انگلیاں مجھ پر