کبھی مسجد کبھی مندر سے اٹھا
Naeem Sabaکبھی مسجد کبھی مندر سے اٹھا
اک سوالی تھا ترے در سے اٹھا
جب بجھا دل میں چراغ امید
اک دھواں سا مرے اندر سے اٹھا
چاندنی روئے زمیں پر پھیلی
شور طوفاں کا سمندر سے اٹھا
جب لٹی اپنی متاع ہستی
ایک شعلہ سا مرے گھر سے اٹھا
وہ بھی اک نعرۂ مستانہ تھا
جو مرے سایۂ پیکر سے اٹھا
کس قیامت کی یہ انگڑائی ہے
نشہ سا بادہ و ساغر سے اٹھا
اس کا پیکر کبھی مانند صلیب
میرے ہر خواب کے محور سے اٹھا
دیر میں جب بھی اٹھا ہے فتنہ
سند خیر سے یا شر سے اٹھا
میری پہچان ہے مجھ سے قائم
ہر نفس اپنے ہی محور سے اٹھا
میں جو اک شعلہ نوا شاعر ہوں
بے صدا بزم سخنور سے اٹھا