کف غبار میں ملبوس میرا پیکر تھا
Naeem Sabaکف غبار میں ملبوس میرا پیکر تھا
یہ سانحہ تو ازل سے مرا مقدر تھا
ہر ایک سمت سے مجھ پر ہوئی تھی بارش سنگ
زہے نصیب میں اپنے مکاں کے اندر تھا
سکوت شب میں یہ آواز مجھ کو دی کس نے
وہ راستے کا مسافر تھا یا کہ رہبر تھا
اسی کا عکس رہا آئنے میں جلوہ فگن
وہ اپنی ذات کا شاید خود آئینہ گر تھا
ترے جمال سے تھی زندگی میں رعنائی
مرے وجود کا تو ہی ازل سے محور تھا
اندھیری رات میں سایہ بھی ساتھ دے نہ سکا
نشیب راہ میں خود ہی میں اپنا رہبر تھا
مری نظر میں بریشم تھا سلک پیراہن
گہر بھی میرے لئے راستے کا پتھر تھا
مرے سفر کی صباؔ انتہا یہی تو نہیں
قدم تھا ریت پہ اور سامنے سمندر تھا