کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے
Badr Jamaliکب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے
کب وحشت دل کا مری سامان نہیں ہے
یادوں کو لگائے ہوئے سینے سے گزر جا
یہ راہ محبت ہے کچھ آسان نہیں ہے
دنیا میں مجھے دولت جاوید ہے حاصل
کیا دل میں مرے آپ کا ارمان نہیں ہے
اے بادہ کشو ظرف کی کچھ بات کرو آج
ساقی کا یہاں عام اب احسان نہیں ہے
کیا پوچھتے ہو تمکنت حسن کا عالم
اب جیسے کرم کا کوئی امکان نہیں ہے
کچھ روز سے ہر نیشتر غم ہے گوارا
کیا یہ نگہ مست کا احسان نہیں ہے
ارمان امنگ حوصلہ امید بھی اس میں
کاشانۂ دل دوستو ویران نہیں ہے
یوں ملتے ہیں مجھ سے وہ سر بزم جمالیؔ
جیسے مری ان سے کوئی پہچان نہیں ہے