اب میرے لئے آنکھ تیری نم ہے مجھے کیا

Naeem Saba

اب میرے لئے آنکھ تیری نم ہے مجھے کیا

اب ترک مراسم کا تجھے غم ہے مجھے کیا

اس شہر نگاراں میں سر شام ابھی تک

پھولوں سے مہکتا ہوا موسم ہے مجھے کیا

روشن تھا جو برسوں سے دیا میری وفا کا

اب تیرے شبستاں میں وہ مدھم ہے مجھے کیا

پھر تیرے لبوں پر ہے وہی رنگ حنا کا

شانے پہ ترے زلف بھی برہم ہے مجھے کیا

یہ فصل بہاراں یہ جنوں خیزیٔ موسم

اب دل میں ترا غم بھی بہت کم ہے مجھے کیا

اک دشت تحیر کا سماں ہے مرے آگے

منزل کا نشاں آج بھی مبہم ہے مجھے کیا

میں ڈھلتی ہوئی دھوپ میں سائے کی طرح ہوں

تو نکہت گل حسن مجسم ہے مجھے کیا