ہجر میں جو اشک چشم تر گرا

Badr Jamali

ہجر میں جو اشک چشم تر گرا

اک پیام حال دل بن کر گرا

دوستوں کے طنز کا ایک ایک تیر

برق بن بن کر مرے دل پر گرا

جب اٹھایا بزم سے اس شوخ نے

میں اٹھا اٹھ کر چلا چل کر گرا

وائے اک مفلس کا تھا سب کچھ وہی

ان دنوں سیلاب میں جو گھر گرا

کیا غضب ہے زندگی کی دوڑ میں

راہزن آگے بڑھا رہبر گرا