ہم نے دیکھے زندگی میں چند ایسے سرپھرے

Badr Jamali

ہم نے دیکھے زندگی میں چند ایسے سرپھرے

دشمنوں میں جو پیام دوستی لے کر پھرے

وائے یہ تحت شعور اپنا بلا سا بن گیا

اپنی آنکھوں میں بڑے نادیدنی منظر پھرے

جب بھی وہ آئے کھلی عیش و طرب کی چاندنی

دن مرے ظلمت کدہ کے اس طرح اکثر پھرے

کیا کوئی شہر تمنا پھر اجڑ کر بس گیا

جابران وقت کیوں خنجر لئے گھر گھر پھرے

شب کو اکثر ہم سفر تھی ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی

دن کو ہم جلتا ہوا سورج لئے سر پر پھرے

نیند کیا آتی شب ہجراں کے اس ماحول میں

ہم کبھی بیٹھے کبھی اٹھے کبھی اٹھ کر پھرے

دم غنیمت ہے جمالیؔ آپ کا اس دور میں

اب زمانے میں کہاں ہیں آپ جیسے سرپھرے